پشاور(مانند نیوز) نرسنگ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے صوابی میں پہلے سرکاری سطح پر”نگار”کالج آف نرسنگ کے نام سرکاری نرسنگ کا کالج کا افتتاح کردیا گیاجس کا افتتاح پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹنٹ جنرل نگار جوہر خان اور مشیر صحت نے پیتا کاٹ کرکیا، افتتاحی تقریب ہسپتال کے آئڈوٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب میں ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل نگار جوہر نے بتایا کہ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ آج میں نے اپنے نام سے منسوب نرسنگ کالج کا افتتاح کیا، نگار جوہر نے باچاخان میڈیکل کمپلیکس اور گجوخان میڈیکل کالج کی انتظامیہ کو نگار کالج آف نرسنگ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، افتتاحی تقریب میں مشیر وزیراعلی برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، ممبر پی ایم ڈی سی اورچئیرمین بی او جی ایم ٹی آئی ایل آر ایچ ڈاکٹر محمد زبیر سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ مشیر صحت نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں تربیت یافتہ نرسوں کی کمی ہے کوشش ہے کہ سرکاری سطح پر نرسنگ کالج کے قیام کو ممکن بناکر نرسوں کی کمی کو پورا کیا جائے گاانہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت دس لاکھ نرسوں کی کمی ہے اور خوشی اس بات کی ہے اب شعبہ نرسنگ کولوگ بطور پیشہ اپنا رہے ہیں تقریب سے ایم ٹی آئی صوابی کے سابقہ اور موجود بورڈ چئیرمین، جبکہ چئیرمین بی او جی ایل آر ایچ، ڈین جی کے ایم سی اور نرسنگ ڈائریکٹر سمیت سابقہ وائس چانسلر وومن یونورسٹی صوابی نے بھی خطاب کیا۔ شرکاء نے نرسنگ کالج کے قیام کو صوابی کے لئے خوش آئندقرار دیاترجمان کے مطابق نگار نرسنگ کالج میں باقاعدہ طور پر داخلوں کا آغاز ہوگیا ہے، نرسنگ کالج پاکستان نرسنگ کونسل اور دیگر اداروں سے منظور شدہ کالج ہے جہاں جدید طرز کے مطابق نرسنگ کے تمام کورس کئے جارہے ہیں۔ کالج میں اس وقت بی ایس سی این، پوسٹ آر این اور ایل ایچ ویز کے داخلے جاری ہیں تقریب کے اختتام پر شرکاء نے نگارکالج آف نرسنگ کا تفصیلی دورہ کیا جبکہ پرنسپل حزب اللہ نے نگارنرسنگ کالج کی جانب شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔