جمرود(نمائندہ مانند )فاٹا انضمام کے مسئلے پر چیف جسٹس لارجر بینچ بناکر قبائلی عوام کو انصاف دے،2 سال قبل لارجر بینچ تشکیل دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کہ تاحال ایفاء نہیں ہوسکا۔قبائلی مشران تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود تاریخی باب خیبر سے جمرود پریس کلب تک فاٹا انضمام مخالف احتجاجی مظاہرہ ہوا جبکہ بعد میں تاریخی باب خیبر سے جمرود پریس کلب تک ریلی بھی نکالی۔شرکاء نے ہاتھوں میں کالی جھنڈیاں، بینرز و کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر انضمام مخالف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو احتجاجاً ہر قسم ٹریفک کے لیے بند کردیا۔احتجاجی مظاہرے سے فاٹا قومی جرگہ کے ملک بسم اللہ خان، ملک خان مرجان وزیر،قبائل عوامی پارٹی کے بانی اعظم خان محسود،ملک شکیل خان اور نوجوان لیڈر نجیب الرحمان اورکزئی،ملک زیارت گل،ملک زینا گل،ملک میر افضل مھمند، ملک نائب خان،ملک یارمحمد، ملک رضاخان اور ملک علمگیر،ملک الف خان،ملک نبی جان زخہ خیل، ملک یاربادشاہ شلمانی، ملک زاھد شاہ،حاجی موسی خان قمبر خیل، ملک حضرت ولی، گلا خان و دیگر نے کہا کہ فاٹا انضمام بالجبر کیا گیا ہے قبائلی مشران سے کوئی رائے نہیں لی گئی تھی جو وعدے ہم سے کیے گئے تھے وہ ایفا نہیں ہوئے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ قبائلی علاقوں سے پٹوار سسٹم کا خاتمہ کرکے قبائیلی رسم و رواج کو بحال کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ قبائیلی علاقوں کے اپنی رسم و رواج ہے جو سارے مسائل خوش اسلوبی سے حل کرتے ہیں۔انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز ججز اپنے وعدے کے مطابق فاٹا بالجبر انضمام پر لارجر بینچ تشکیل دے کر قبائلی عوام کو تحفظ فراہم کریں۔فاٹا انضمام کے خلاف لارجر بینچ جلد سے جلد بنائی جائے کیونکہ کہ دو سال گزرنے کے باوجود لارجر بینچ بنانے کا وعدہ پورا نہیں ہوا اس لیے فاٹا انضمام کے مسئلے پر لارجر بینچ بناکر انصاف پر مبی فیصلہ کیا جائے۔ مقررین نے مزید کہا کہ چونکہ انضمام قبائل کے مشورے کے بغیر کیا گیا ہے اور انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں پر عمل بھی نہیں ہوا بلکہ فاٹا کو ترقی دینے کے بجائے فاٹا کے وسائل جنگلات پہاڑوں اراضی اور دیگر آثاثوں پر ڈاکہ ڈالا گیا وعدے کے برعکس ہر قسم کا ٹیکس لاگو کیا گیا۔ انضمام کی وجہ سے فاٹا کے مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ کئی گناہ بڑھ گئے ہیں۔انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں جرائم بڑھ گئے ہیں، پولیس بشمول تمام اداروں نے لوٹ مار شروع کی ہوئی ہے،لوگوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہے۔تعلیم ریشو خطرناک حد تک کمی آگئی ہے۔ہمارے طلباء کے تعلیمی کوٹے ختم کردئے گئے ہیں۔قبائلی عوام سے روزگار چھین لیا گیا ہے۔امن و امان کی صورتحال بگڑی ہوئی ہے۔اگر انہیں صورتحال کا نام فاٹا انضمام ہے تو قبائلی عوام اس انضمام کو مسترد کرتی ہے۔رمضان کے بعد انضمام مخالف تحریک میں تیزی لائی جائیگی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے