پشاور(پریس ریلیز) محکمہ خوراک نے گرانفروشی پر 19قصابوں کو گرفتار کرلیا جبکہ کار سرکار میں مداخلت اور محکمہ خوراک کے افسران کو دھمکیاں دینے پر ہشت نگری میں قصابوں کے یونین کے صدر نظر قصاب کیخلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر راشننگ فوڈ کنٹرولر پشاور جمشید آفریدی کی نگرانی میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تسبیح اللہ نے بھانہ ماڑی میں مسقط بیف شاپ کے منیجر‘شعبہ بازار سے چھ قصابوں‘ ورسک روڈ سے 7‘ کریم پورہ بازار کے حاجی وکیل اور ہشت نگری سے چار قصابوں کو قیمہ اور گوشت کا من مانے نرخ مقرر کرنے پر گرفتار کرلیا۔اس دوران ہشت نگری میں قصابوں کے یونین کے صدر نظر قصاب نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور محکمہ خوراک کے افسران کو دھمکیاں دیں جس پر انہیں گرفتار کر کے تھانہ ہشت نگری میں پابند سلاسل کردیا۔ واضح رہے کہ قیمہ کو گیارہ سو سے بارہ سو روپے فی کلو جبکہ گوشت کو 950 روپے سے 11 سو روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا تھا۔ محکمہ خوراک کے افسران کے مطابق گرفتار قصابوں کو سات‘ سات دنوں کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔ راشننگ فوڈ کنٹرولر پشاور جمشید آفریدی نے کہا کہ کار سرکار میں مداخلت کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی‘ فوڈ پوائنٹس مالکان ہر صورت سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے جبکہ خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک کی اولین ترجیح شہریوں کو معیاری و مقررہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی ہے جبکہ اپنا قبلہ درست نہ کرنے والے فوڈ پوائنٹس مالکان‘ قصاب و دیگر اشیائے خوردونوش کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف فوڈ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔