پشاور(مانند نیوز) صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے رمضان المبارک میں شہریوں کو ریلیف دینے کی خاطر شہر ہشت نگری‘ کریم پورہ‘ رام پورہ گیٹ‘ اور شہر کے دیگر بازاروں کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ خوراک ظریف المعانی‘ ڈائریکٹر یاسر حسن‘ راشننگ فوڈ کنٹرولر پشاور جمشید آفریدی‘ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تسبیح اللہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ موقع پر موجود شہریوں نے انہیں نرخوں میں من مانے اضافے بارے شکایت کی جس پر محکمہ خوراک کے افسر ان نے فوری طور پر کریانہ سٹور‘ سبزی و پھل فروش اور قصاب سمیت 6 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف تھانہ ہشت نگری میں مقدمہ درج کرلیا۔ بعد ازاں محکمہ خوراک کے افسران نے حیات آباد کی مختلف مارکیٹوں‘ سیٹھی ٹاؤن‘ پھندو روڈ پر مختلف علاقو ں‘ بھانہ ماڑی اور گلبہار کے مختلف علاقوں میں کریانہ سٹور‘ قصاب‘ سبزی و پھل فروش‘ دودھ و دہی فروش‘ نانبائی‘ بیکری و دیگر اشیائے خوردونوش کی دکانوں پر شہریوں کی شکایات پر نرخوں بارے آگاہی حاصل کی۔ سرکاری نرخنامے سے تجاوز کرنے پر 16افراد کو گرفتار کرلیا۔ صوبائی و زیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں گر انفروشوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز کیا جائے اور شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار گرانفروشی کے مرتکب افراد کی دکا نوں کو سیل کیا جائے جبکہ اس سلسلے میں کسی کیساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گرانفروش اپنا قبلہ درست کریں‘ گرانفروشوں کیلئے صوبے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے محکمہ خوراک کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ر وزانہ کی بنیاد پر گرانفروشوں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائیں اور کسی کیساتھ رعایت نہ کی جائے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر محکمہ خوراک کے افسران بھی گرانفروشی میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔