وانا (مانند نیوز) قبائلی صحافیوں کے لئے رمضان پیکج کا اعلان کریں، صحافی انتہائی کھٹن حالات میں اپنی ملک اور علاقے کی اواز اٹھا رہاہے 9/11 کے بعد سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات متاثر ہوئے، قبائل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر اوردین محسود نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں سینکڑوں قبائلی صحافیوں نے علاقے چھوڑ کر ملک کے مختلف شہروں میں اپنی مدد اپ کے تحت رہائش پذیر ہوگئے تھے متعدد جرنلسٹس نامعلوم نقاب پوشوں اور کالے شیشوں والی گاڑیوں سے فائرنگ کی نشانہ بنا کر شہید کردیئے گئے اور ان کے بچے دربدر ٹوکرے کھانے پر مجبور ہیں دہشت گردی کی جنگ میں جنوبی وزیرستان سے لیکر باجوڑ تک متعدد پریس کلب بارودی دھماکوں میں اڑا دئے گئے جس کی وجہ قبائلی علاقوں کے صحافی حضرات مختلف قسم کے مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اج تک پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صحافیوں کے ساتھ حکومتی حکام کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا گیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ درجنوں صحافی انتہائی بے بسی کی زندگیاں بسر کرنے پر مجبور ہیں، انھوں نے قبائلی علاقوں کے صحافیوں کیلئے اس بابرکت مہینے میں خصوصی پیکیجز کا اعلان کریں اور دیگر امدادی کاموں میں صحافیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ صحافی معاشرے کی کان اور انکھ ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ تمام پریس کلبوں کے لئے سالانہ فنڈ کو بروقت جاری کریں۔