پشاور(مانند نیوز) محکمہ خوراک نے رمضان المبارک میں شہریوں کو معیاری و مقررہ نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی تبدیل کردی اور گرانفروشوں کو جرمانہ کرنے کے بجائے ان کی دکانیں سیل کرنے اور انہیں جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آج سے باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز راشننگ فوڈ کنٹرولر پشاور جمشید آفریدی کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرز تسبیح اللہ‘ کمال احمد اور دیگر اے ایف سیز و فوڈ انسپکٹرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اے ایف سیز اور فوڈ انسپکٹرز کی جانب سے راشننگ فوڈ کنٹرولر جمشید آفریدی کو رمضان المبارک میں جاری آپریشن بارے آگاہی دی گئی جس پر راشننگ فوڈ کنٹرولر پشاور جمشید آفریدی نے اطمینان کا اظہار کیا اور باقاعدہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ گرانفروشوں کو جرمانہ کرنے کے بجائے ان کی دکانیں سیل کرنے اور انہیں جیل بھیجا جائے گا جن کو بعد ازاں عید الفطر رہا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے محکمہ خوراک کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ گائے کا گوشت 740 روپے اور بھینس کا گوشت 7 سو روپے فی کلو‘ دودھ 180‘ دہی 190 روپے فی کلو اور 120 گرام روٹی 20 روپے سے زیادہ پر فروخت کرنے والوں کے خلاف فوڈ ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردونوش کے معیار و گرانفروشی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ مرتکب افراد کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔