جمرود(مانند نیوز)جمرودمیں آوارہ اور باوٗلے کتوں کی باعث عوام کو سگین مشکلات کا سامنا ہے کوئی محکمہ زمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔شاہدخان ضلع خیبر تحصیل جمرودکے متحدہ آزاد پینل صدر و چیئرمین ٹاؤن 2 شاہد خان نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ جمرودمین بازار اور مختلف علاقوں میں آوارہ اور باوٗلے کتوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث ایک نوجوان عبدالرحیم ولد نورباز سکندر خیل سکنہ غنڈی بھی گزشتہ دنوں آوارہ کتے کے کاٹنے سے مر گیا ہے۔مقامی زرائع کے مطابق عبدالرحیم کو تین مہینے پہلے آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک دفعہ پھر آوارہ کتوں کو نہ مارنے کا حکم دیا ہے،جسکا باقاعدہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہو اہے۔ بازاروں، گلی کوچوں میں آوارہ اور باوٗلے کتوں میں روز بروز اضا فہ یہ مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے جسکی وجہ سے خاص کر سکول اور مدرسے کے بچے گھروں سے نکل نہیں سکتے کیونکہ ہر جگہ آوارہ کتوں کا راج ہے مختلف علاقوں میں کئی دفعہ سکول کے بچے آوارہ کتوں کے شکار ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال سے اس نے ٹی ایم اے جمرود،لائیو سٹاک خیبر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جمرود کے نوٹس میں آوارہ کتوں کا مسئلہ رکھا ہے اور متعلقہ حکام کو درخواستیں دی ہیں اور سیٹیزن پورٹل پر شکایات بھی درج کی ہیں لیکن کوئی زمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ ٹی ایم اے جمرود، لائیوسٹاک خیبر پر اور لائیو سٹاک خیبر،ٹی ایم اے پر زمہ داری ڈال رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں اور حکام کا کام موجودہ وزیر اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن نے مزید آسان کر دیا ہے کہ آوارہ کتوں کو غیر انسانی طریقے سے نہ مارا جائے۔افسوس کی بات ہے کہ انسانوں کی فکر نہیں جبکہ آوارہ کتوں کے لئے انسانیت کی فکر ہے۔ضروری تھا کہ آوارہ کتوں کی افزائش نسل کو روکنے کے لئے لائیو سٹاک کو وہ تمام سہولیات مہیا کرتے اور پھر اس کے بعد آوارہ کتوں کو مارنے پر پابندی لگانے کے احکامات جاری کرتے۔