شانگلہ(مانند نیوز)کسٹم ایکٹ کا ممکنہ نفاذملاکنڈ ڈویژن کی دیگر حصوں کی طرح شانگلہ میں بھی تاجروں کا شٹر ڈاؤن، مارکیٹیں اور بازار مکمل طور پر بند رہی، تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں ہو کا عالم رہا جبکہ مختلف علاقوں میں پہیا جام بھی ہوا۔ کسٹم ایکٹ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت ختم کرنا کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ ملک ڈویژن کے بیشتر علاقے مسلسل قدرتی آفات،دہشت گردی،کمزور ٹریڈ، حادثات اورنامثائد حالات غربت سے شدید متاثر رہی ہیں یہاں کسٹم ایکٹ سمیت کسی بھی متنازعہ اقدامات کو ماننے کو تیار نہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن اور دیگر علاقوں میں اس وقت شدید بے چینی کی لہر دوڑ رہی ہے اور مرکزی حکومت عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے متنازعہ کسٹم ایکٹ کی فوری واپسی اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔ شانگلہ کے صدر مقام الپوری، مرکزی شہر بشام، تحصیل ہیڈ کوارٹرپورن،چکیسر، شاہپور، مارتونگ سمیت تمام چھوٹے بڑے بازار تجارتی مارکیٹ اور بیشتر علاقوں میں شٹر ڈاؤن کے ساتھ پہیا جام بھی رہا۔ منگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ممکنہکسٹم ایکٹ کے خلاف مکمل طور پر شٹر ڈاؤن سے تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی جبکہ بیشتر سکولوں میں طلباء کی حاضری بھی کم رہی مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ سسٹم بند ہونے سے ٹریفک کے روانی بھی شدید متاثر رہی جس سے امد و رفت میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شانگلہ کے صدر مقام الپوری اور دیگر بازاروں میں ہوٹلز بند ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ عوام کے جائز اور ملاکنڈ ڈویژن کے معاشی صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ممکنہ کسٹم ایکٹ کی فوری واپسی کا اعلان کرے ملا کنڈ ڈویژن کے عوام اس وقت کسی بھی ٹیکس دینے کے متحمل نہیں، یہاں کاروبار انتہائی کمزور اور دیگر مشکلات ہونے کی وجہ سے یہ ڈویژن مسلسل قدرتی افات کی زد میں رہا ہیں۔