سخاکوٹ(مانند نیوز) جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر اور سابقہ صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت جان لے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی بھی صورت ٹیکسوں کے نفاذ کیلئے تیار نہیں ہم ملاکنڈ ڈویژن میں اپنے وسائل کے حقوق مانگتے ہیں۔دوجون کو ملاکنڈ دویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج کے طور پر سوات موٹروے اور پلازے پر بڑااحتجاجی دھرنے کااعلان بھی کیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی ملاکنڈ کے زیر اہتمام گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جرگہ سے جماعت اسلامی کے رہنماو سابقہ صوبائی وزیر شاہ راز خان، سابقہ ایم این اے سیدبختیار معانی، امیر جماعت اسلامی ضلع ملاکنڈ شہاب حسین، اے این پی ضلعی صدر اعجازعلی خان، مسلم لیگ ن کے علی محمد، جماعت اسلامی ضلع ملاکنڈ کے نائب امیر مولانا جمال الدین، ضلعی جنرل سیکرٹری رضوان اللہ مہمند، جے یوآئی پاکستان کے مولانا جاوید، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شرین خان ایڈوکیٹ، ٹریڈیونین کے شاکر اللہ خان، سلطان یوسف، حمید خان لالا، پیر عظمت شاہ، ملک ریاض، حاجی احمدزادہ خان، پرائیویٹ ایجوکیشن نٹ ورک کے صوبائی رہنما امجدعلی شاہ، امیر جماعت اسلامی بٹ خیلہ سٹی مفتی محمدارشاداور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ دویژن میں ٹیکسوں کے نفاذخلاف تمام سیاسی جماعتیں، تاجربرادری، وکلاء برادری اور ہر طبقہ کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ ملاکنڈ دویژن میں معدنیات،جنگلات، پانی، بجلی ہماری پیداوار ہے مگر اس کے باوجود عوام تمام ترقیاتی عمل سے باہر اور محروم ہیں یہاں کے عوام مسلسل قدرتی افات، سیلاب، زلزلہ اور فوجی اپریشن سے متاثر ہوگئے ہیں حکومت ٹیکسوں کے بجائے عوام کوریلف فراہم کریں۔انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے قیادت اور ممبران قومی وصوبائی اسمبلی پر زور دیاکہ وہ ملاکنڈ دویژن میں ٹیکسوں کے نفاذکے خلاف اپناکرادار اداکریں ورنہ قوم کبھی انکو معاف نہیں کریگی اور انکے گھروں کے سامنے دھرنے دینگے اور اپنے حقوق کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور بہت جلد بھرپور احتجاجوں کیلئے ائندہ کا لائحہ عمل تیارکریں گے۔