بٹ خیلہ (مانند نیوز) ملاکنڈ انتظامیہ کی پرائس ریویو کمیٹی کے فیصلے مذاق بن گئے پورے ضلع میں کہیں بھی مقررہ نر خ پر روٹی اور گوشت دستیاب نہیں نانبائیوں اور قصائیوں نے علاقے میں اپنا راج قائم کر رکھا ہے جبکہ انتظامیہ اور متعلقہ محکموں بے بس دیکھائی دیتے ہیں تاجر تنظیمیں اور رہنما بھی دکانداروں کے مفاد کیلئے کام کر رہے ہیں مہنگائی کے مارے عوام صرف اور صرف اللہ کے رحم وکرم پر ہیں آٹے کی قیمت میں 45فیصد ریکارڈ کمی کا فائدہ عوام کو تاحال نہیں مل سکاپرائس کمیٹی نے گذشتہ روز150گرام روٹی کی قیمت20روپے مقررہ کی تاہم اجلاس ختم ہوتے ہی روٹی کا وزن140گرام کردیا گیابھینس کے بڑے گوشت کی قیمت750جبکہ بچھڑے کی850روپے فی کلوسرکاری قیمت مقررہ کی گئی تاہم قصائی سرعام دیدہ دلیری سے گوشت900اور 1000روپے فی کلو بیچ کر شہریوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں انتظامی افسران اور متعلقہ اہلکاروں کوٹھنڈے دفاترسے باہر اور بڑی گاڑیوں اتر کرشہریوں کے ریلیف کیلئے سرگرم ہونا ہو گا سول سوسائٹی کو بھی اپنے جائز حق اور ریلیف کیلئے منظم انداز میں باہر آنا ہو گا۔