کرم (مانند نیوز)ضلع کرم میں امن معاہدے اور فائربندی کے بعد معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ضلع بھر میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں اورمین شاہراہ سمیت آمدورفت کے تمام راستے بھی کھل گئے ہیں۔واضح رہے کہ ضلع کرم میں 24 جولائی سے قبائل کے مابین جائیداد کے تنازعے پر شروع ہونے والے جھڑپوں نے مذہبی رنگ اختیارکرلی تھی۔ان 6 روزہ جھڑپوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو ئیں اور درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ضلع کرم میں صوبائی حکومت کی ہدایت پر نوتعینات کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈی آئی جی کوہاٹ شیراکبرخان، ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود اور وہاں پر موجود سیکورٹی فورسز اور جرگہ ممبران کی انتھک کوششوں سے 2 ماہ کیلئے عارضی فائربندی ہو گئی ہے اور انشاء اللہ عنقریب فریقین کے مابین مستقل معاہدہ بھی کیا جائے گا۔5 اکتوبر تک ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق سے 12 کروڑ روپے جرمانہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی فریق کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اہلیانِ علاقہ کی جانب سے امن معاہدے کا ہر سطح پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔