جمرود(مانند نیوز)خیبر: کرسچن کمیونٹی کی طرف سے 11 اگست قومی یوم اقلیتی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ضلع خیبر میں تاریخی باب خیبر کے مقام پر کرسچن کمیونٹی کی نے 11 اگست قومی اقلیتی دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے اپنے مطالبات درج تھے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے قائمقام چیئرمین جمرود حاجی عظمت آفریدی, وی سی 17 چورا اقلیتی کونسلر حناء سہیل, ندیم مسیح اور زوان کوکی خیل اتحاد کے صدر ثنائاللہ آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں کرسچن کمیونٹی طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہیں مقررین نے کہا کہ قبائلی اضلاع اور بالخصوص لنڈیکوتل اور جمرود میں کرسچن کمیونٹی 1914 سے آباد ہیں لیکن یہاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انہیں مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا ہیں جس سے انکی زندگی اجیرن ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ لنڈیکوتل اور جمرود میں انکو بڑا مسئلہ انکی رہائشیوں کا ہے کیونکہ زمین وہی پرانی ہے اور آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایک کمرے میں 8 سے 10 افراد رہتے ہیں کرسچن کمیونٹی کا یہ ہی صورتحال پورے قبائلی اضلاع میں ہے جمرود میں کرسچن کمیونٹی کو پانی اور نکاسی اب کا بھی مسئلہ درپیش ہے حناء سہیل نے کہا کہ باجوڑ میں کرسچن کمیونٹی کیلئے قبرستان کا مسئلہ ہے کیونکہ باجوڑ کرسچن کمیونٹی اپنی میت نوشہرہ لے جاتے ہیں جوکہ وہاں کے لوگوں کو مشکلات ہوتی رہتی ہے اور مالی خرچہ بھی زیادہ آ جاتا ہے آخر میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان, وزیراعلی خیبرپختونخوا, گورنر, ایم این اے خیبر, ایم پی اے اور کورکمانڈر پشاور سے مطالبہ کیا کہ لنڈیکوتل اور جمرود میں مقیم کرسچن کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور انکو دیگر پاکستانی عوام کی طرح سہولیات فراہم کریں۔