پشاور( مانند نیوز)مائیگرنٹ ریسورس سنٹرپشاور کے کوارڈنیٹر حمید اللہ خان نے کہا ہے کہ مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز بیرون ملک کام، تعلیم یا رہائش کے سلسلے میں جانے والے خواہشمند افراد کو مستند اور شفاف معلومات کے ساتھ ساتھ ضروری معاون خدمات فراہم کرتے ہیں۔ جس کا مقصد شفاف، قانونی اورمحفوظ ہجرت کے فروغ اور تارکین وطن کے حقوق کے متعلق شعور کو اجاگر کرنا شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں ایک روزہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہو ئے کیا، سیشن میں سول سائٹی،طلبہ،نوجوانوں اور خواتین نے شرکت کی،پروگرام سے ما ئیگرنٹ ریسورس سنٹر پشاور کے کونسلر محمدحسین ابدالی اور ماہ نور شکیل نے بھی خطاب کیا،مقررین نے کہا کہ اگر ہجرت کا ارادہ ہو تو ہمیشہ قانونی ہجرت کا انتخاب کریں اور اپنی جان و مال کی حفاطت کریں۔ زیادہ تر لوگ ہجرت کا انتخاب بہتر مستقبل کے حصول کے لیے کرتے ہیں، اورتحقیق کے مطابق غیرقانونی ہجرت کواپنانے کی بنیادی وجہ مستند معلومات کا فقدان ہے، زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے ذریعے اپنے پسندیدہ ملک باآسانی، کم پیسوں میں اور جلد پہنچ جائیں گے جبکہ سچائی اسکے برعکس ہے۔سیشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ بیرونِ ملک ملازمت کی تلاش کے لیے ہمیشہ حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ لائیسنس یافتہ بھرتی کی ایجنسی یا حکومت کے قائم کردہ اورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن سے رابطہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ ایم آرسی ان آگاہی سیشن کا انعقاد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کررہا ہے تاکہ لوگوں کو قانونی اور محفوظ ہجرت کے بارے میں تمام معلومات مفت فراہم کی جاسکے،انہوں نے کہا کہ مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز، اسلام آباد اور لاہور میں 2016 میں اور حال ہی میں پشاور میں 2024 میں قائم کیے گئے ہیں۔ یہ سینٹرز وفاق اور پشاور میں وزارت برائے سمندر پار پاکستانیزاورانسانی وسائل کی ترقی (ایم۔او۔پی۔ایچ۔آر۔ڈی)، اور لاہور میں لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ،حکومت (پنجاب) کی سرپرستی میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ہمیں اس پروجیکٹ کی مالی ماونت فراہم کررہی ہے جس کے زریعے پاکستان اور جنوبی اور مغربی ایشیا میں مائیگرنٹ ریسورس سینٹرز کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہے۔ جس کا مقصد آگاہی مہم کو تقویت دینا، ممکنہ تارکین وطن کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنا، اور ایم آرسیز کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد مائیگریشن مینجمنٹ اور گورننس کو سپورٹ کرنا اور پاکستانیوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے عالمی لیبر مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھانا ہے