وانا (مانند نیوز) ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا نے پیکا ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترامیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کرا کے صحافت، جو کہ ریاست کا چوتھا ستون ہے، کو محدود کرنے کی سازش کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس اقدام کے ذریعے اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ ملک میں سول آمریت نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صدر شہزادہ وزیر اور سینئر صحافی نیک محمد وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ترمیم دراصل آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان میں سپریم کورٹ کے بعد اب صحافت کو بھی محکوم بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کے ذریعے صحافیوں کو دبانے اور ان کی آواز کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ اس قانون کے نفاذ سے میڈیا کو اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا نے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا ایکٹ میں ترامیم کی مخالفت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت ان ترامیم کو واپس نہیں لیتی، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔