اسلام آباد (مانند نیوز)چار روز میں مسودے کے 17 ابواب پر کام مکمل کر لیا گیا۔اجلاس بلا ناغہ بلا تعطل صبح 10 بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک جاری رہا۔کورم کو مکمل رکھنے اور بلا ناغہ اور بلا تعطل ترامیم مباحثے اور تجاویز و ترامیم کو مسودے کا حصہ بنانے کی خاطر اجلاس کو اسلام آباد میں رکھا گیا صوبائی اسمبلی خیبر پختون خواہ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و طریقہ کار استحقاقات اور سرکاری یقین دہانیوں پر عمل درامد کے حوالے سے بحث کی گئی اجلاس میں اسمبلی رولز میں تجاویز کردہ ترامیم کے حوالے سے بھی تفصیلی بحث ہوئی کمیٹی کی بیٹھک جو کہ حکومتی اور اپوزیشن پر مشتمل تھی۔ صوبائی اسمبلی پرانے قوانین میں ضروری ترامیم کر کے اور نئے رولز فریم کریں گے۔ ان رولز پر پچھلی دور حکومت میں صوبائی اسمبلی کی ٹیکنیکل کمیٹی نے کام شروع کیا مگر نگران سیٹ اپ کی وجہ سے کام تعطل کا شکار رہا اس لیے یہ کمیٹی بحث ومباحثے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔۔۔کمیٹی کی چیئر پرسن ثریا بی بی نے کہا ہے کہ ان ترامیم کے بعد حتمی سفارشات اگلے اجلاسوں میں منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے حتمی ترامیم کے بعد اسمبلی اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم نے شرکت کی۔اس کے علاوہ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی منیر لغمانی۔مشتاق احمد غنی۔صوبیہ شاہد محمد امجد اسلام اور ملک محمد عدیل نے شرکت کی۔اس کے علاوہ محکمہ قانون کے اعلی احکام نے بھی شرکت کی۔صوبائی اسمبلی کے سابقہ اسپیشل سیکرٹری امجد علی خان نے بھی شرکت کی۔ آخر میں ڈپٹی سپیکر چیئر پرسن ثریا بی بی نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تجاویز کردہ ترامیم پر بحث میں حصہ لیا اور اپنی تجاویز سفارشات و تحفظات سے کمیٹی کو اگاہ کیا-