پشاور(مانند نیوز)سول سوسائٹی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین نے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کو اولین ترجیح دے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں لاکھوں لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 25(A) کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جو 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تازہ ترین سروے کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 2.9 ملین لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں، جو 5-16 سال کی کل لڑکیوں کی آبادی کا 53 فیصد بنتا ہے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں یہ تعداد اور بھی زیادہ تشویشناک ہے، جہاں 74.4 فیصد لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کے مقابلے میں، صوبے میں 1.7 ملین لڑکے بھی اسکول سے باہر ہیں۔صوبے میں اس وقت تقریباً 35,000 سرکاری اسکول موجود ہیں، جہاں 5.5 ملین طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تاہم، تعلیمی محکمے کا اندازہ ہے کہ تمام اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم دینے کے لیے مزید 15,000 اسکولوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ رفتار کے مطابق، حکومت ہر سال صرف 300 اسکول بنا رہی ہے، جس سے یہ ہدف پورا کرنے میں 50 سال لگ سکتے ہیں —جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔بلیو وینز کے پروگرام مینیجر اور پاکستان ایجوکیشن چیمپئنز نیٹ ورک میں مالالا فنڈ کے نمائندے، قمر نسیم نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام خیبر پختونخوا کی لاکھوں لڑکیوں کو ان کے بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم کر رہا ہے۔ جب تک حکومت فوری طور پر تعلیمی بجٹ میں اضافہ نہیں کرتی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بناتی، تب تک لڑکیوں کی تعلیم کا بحران برقرار رہے گا۔وزیر اعظم کے نیشنل یوتھ کونسل کی رکن، بشریٰ آفریدی نے بھی بجٹ میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی کمی اور ثانوی تعلیم کے لیے مناسب مالی وسائل کی عدم دستیابی ان کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور ہر روپیہ مؤثر طریقے سے تعلیم کے فروغ پر خرچ ہو۔سول سوسائٹی تنظیمیں، تعلیمی ماہرین، اور یوتھ ایکٹیوسٹ متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے، تاکہ اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت، اور لڑکیوں کے لیے تعلیمی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ اسکولوں کی تعمیر کے موجودہ تخمینے کو کم کرتے ہوئے اگلی ایک دہائی میں مکمل کرنے کے لیے ایک تیز رفتار منصوبہ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ تعلیمی بجٹ کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ تعلیم، مالیات، منصوبہ بندی، اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر کے ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکنے والی رکاوٹوں کو ختم کریں، خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں ہر لڑکی کے لیے معیاری ثانوی تعلیم کی فراہمی صرف ایک تعلیمی پالیسی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران کو فوری طور پر حل کرے اور آئینی وعدے کو پورا کرے۔