جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے۔ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن عزیز اللہ خان مروت، کوآرڈینیٹر فرحاد مروت، میاں محفوظ الرحمن، صاحب خان وزیر اور دیگر رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بنایا تھا، جس میں بعد ازاں 2017 اور پھر 2019 میں ترامیم بھی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کی گئیں۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات اسی ایکٹ کے تحت کرائے گئے، تاہم انتخابی نتائج کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے اس میں ایسی ترامیم کیں جن کے باعث آج تک مقامی حکومتوں کا نظام مفلوج ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کو قانون کے مطابق تمام اختیارات دیے گئے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ گزشتہ روز بھی بلدیاتی نمائندوں سے مزید اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویلیج اور نیبرہوڈ کونسلز کو ترقیاتی فنڈز دینا پیسوں کا ضیاع ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کونسلز آئینی طریقہ کار کے مطابق بجٹ منظور کر کے منصوبے بناتی ہیں، جو آبادی کی ضروریات اور عوامی مطالبات کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں، نہ کہ ممبران کی تعداد کے حساب سے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے ضم شدہ اضلاع کے لیے جس اسپورٹس فنڈ کا ذکر کیا گیا ہے، صوبائی کابینہ کے ریکارڈ میں واضح ہے کہ اس میں ویلیج اور نیبرہوڈ کونسلز کو نظر انداز کیا گیا ہے۔لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے وزیر اعلیٰ کے الفاظ کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 10 ستمبر کو ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اس معاملے پر مشاورت کی جائے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔