شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کیلئے سول ایڈجوڈیکشین کوارڈیننس کمیٹی (سی اے سی سی)کا پہلا افتتاحی اجلاس ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج /ضلع قاضی شانگلہ ممریزخان خلیل کی زیرصدارت منعقدہوا۔یہ اجلاس ضلعی سطح پرکمیٹی کی کاروائیوں کے باقاعدہ آغازکی نشاندہی کرتاہے،دیوانی مقدمات میں انصاف کے عمل کوتیزکرنے کی جانب اہم اقدام ہے۔سی ا ے سی سی پشاورہائیکورٹ کا ایک اسٹریٹجک اقدام ہیں جسے نوٹیفیکشن نمبر293-Jمورخہ 15اگست 2025کے زریعے قائم کیا گیا ہیں۔یہ بنیادی نوٹیفیکشن کمیٹی کے کلیدی مقاصداوراس کے فعال کردارکی (ایس اوپیز)کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔کمیٹی کا بنیادی مینڈیٹ ضلعی عدلیہ،وکلاء اورمختلف سرکاری محکموں کر درمیان ایک اہم پل کا کام کرتا ہے،تاکہ سول مقدمات کو باآسانی اوربروقت نمٹانے کو یقینی بنایاجاسکے۔اس پہلے اجلا س کا مرکزی ایجنڈانوٹیفیکیشن میں بیان کردہ مقاصد اورایس او پیزکے عملی نفاذ پرتبادلہ خیال کرناتھا۔اس کے علاوہ ضلع کی سول عدالت ہائے سے موصول ہونے والی آراء سے مرتب کردہ ابتدائی مسائل کاایک جائزہ بھی پیش کیاگیا۔مستقبل میں گہرائی سے زیربحث آنے والے اہم شعبوں میں ذیل شامل ہیں،غیررجسٹرڈنکاح خواں کے زریعے نکاح پڑھانااوراس کے عائلی قواتین میں درج مضمرات،رینٹ پٹیشن میں دائرہ اختیار کے مقصدکیلئے شہری علاقے کے حدود،ضلعی،صوبائی اوروفاقی حکومت کے خلاف اجراء درڈگری پرعدالتی احکام/عمل درآمدمیں پیش چیلنجز،تحصیل کے سطح پردوانی مقدمات کونمٹانے کیلئے ڈسٹرکٹ اٹارنی کی تعیناتی،شہادت کیلئے ریونیوعملے کی بروقت پیشی /تصدیق شدہ ریونیوریکارڈکی فراہمی کویقینی بنانا،اے ڈی ار ایکٹ 2020کے تحت سول تنازعات کو متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی ار)کیلئے بھیجنے کے عمل کو منظم کرنا۔اپنے ریمارکس میں ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج /ضلع قاضی شانگلہ ممریزخان خلیل نے کمیٹی کے باہمی تعاون کے مقصد پر زوردیا۔ ”سی اے سی سی ایک ایسا فورم ہے جو تعاون کو بڑھانے کیلئے بنایاگیاہے۔پشاورہائیکورٹ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی کا مقصدتمام سٹیک ہولڈرزکو ایک میزپرلاکرانتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی اورانہیں دورکرناہیں جو انصاف میں تاخیرکا سبب بنتی ہیں“۔کمیٹی اپنے مینڈیٹ کے مطابق ان تمام اوردیگرمسائل پرتفصیل سے بات چیت کیلئے ماہانہ بنیادوں پراجلاس منعقدکرے گی۔۔