شانگلہ(مانند نیوز) ترجمان مسلم لیگ ن ضلع شانگلہ گلاپ خان شاہ پوری نے کہا ہے کہ جمہوریت کی جڑیں اتفاق سے مضبوط ہوتی ہے نفرت سے نہیں ن لیگ اور اے این پی ایک دوسرے کیلۓ احترام اور برداشت کی راہ اپناۓ ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا رشتہ نئی بات نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جمہوریت مشکل میں پڑی، یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔یہ وہی مسلم لیگ نہیں جو عبدالقیوم خان کے دور میں تھی، بلکہ یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے، جس نے ہمیشہ جمہوری اقدار، صوبائی حقوق اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی۔انیس سو نوّے میں صوبہ سرحد (موجودہخیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کا اتحاد ہوا تھا لیکن پھر کچھ نادان دوستوں کی وجہ سے ختم ہوا وقت گزرتا گیا، حالات بدلے، مگر اصول وہی رہے جمہوریت کی بقا، عوام کی خدمت، اور انتہا پسندی کے خلاف موقف۔ایمل ولی خان کی یہ نعرہ مقبول بھی ہوا اور انکے مذاق بھی بہت اڑایا گیا کہ گند کو ٹھکانے لگانا ہے جب عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی، تو اے این پی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، محمود خان اچکزی، اور دیگر جمہوری قوتیں ایک صف میں کھڑی ہوئیں۔چارسدہ کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے ایمل ولی خان کا بھرپور ساتھ دیا۔یہ وہی جذبہ تھا جو خان عبدالولی خان اور نواز شریف کے باہمی احترام سے شروع ہوا ایک رشتہ جو ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ جمہوری اصولوں پر قائم تھا۔آج حالات ایک بار پھر نازک ہیں۔ ایمل ولی خان کی سینیٹ میں تقریر پر اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر اخلاق اور تحمل سب سے بڑی سیاسی خوبی ہے۔طلال چوہدری کو غیر محتاط بیانات سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے الفاظ پارٹیوں کے درمیان فاصلہ بڑھاتے ہیں، کم نہیں کرتے۔اسی طرح اے این پی کی قیادت کو بھی بردباری اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے یہی ولی خان اور نواز شریف کی سیاسی وراثت ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ خیبرپختونخوا کے حالات پہلے ہی نازک ہیں۔ دہشت گردی کے خطرات، مہنگائ اوربیروزگاری کے دور میں سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ایمل ولی خان کو سیکیورٹی واپس دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ ذاتی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر دشمنی نہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اے این پی دونوں ایک دوسرے کے لیے احترام، مکالمہ، اور برداشت کی راہ اپنائیں کیونکہ جمہوریت کی جڑیں نفرت سے نہیں، اتفاق سے مضبوط ہوتی ہیں۔