وانا (مانند نیوز ) جنوبی وزیرستان لوئر تحصیل برمل کے علاقے زم چن سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما ملک خان مالیک وزیر نے کہا ہے کہ راغزائی سے لے کر نیزی نرائی اور ملحقہ دیہات تک ہزاروں بچیاں تعلیم جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں، جو کہ نہایت تشویشناک امر ہے۔انہوں نے بتایا کہ تحصیل برمل کے علاقوں زم چن، خامرنگ، نیزی نرائی، واغدالئی اور دیگر قریبی دیہات میں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پسماندہ علاقوں کی بچیاں اسکول نہ ہونے کی وجہ سے زیورِ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں، جو مستقبل میں معاشرتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ملک خان مالیک وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں گرلز اسکول کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ مقامی آبادی، بالخصوص بچیوں کو تعلیم جیسی بنیادی سہولت اپنے ہی علاقے میں میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے کہ ہمیں وہی تعلیمی اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو صوبے اور ملک کے دیگر اضلاع کے عوام کو حاصل ہیں۔ملک خان مالیک وزیر نے رکن صوبائی اسمبلی عجب گل وزیر، رکن قومی اسمبلی زبیر خان وزیر، صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی سے پُرزور مطالبہ کیا کہ تحصیل برمل کے علاقے زم چن میں فوری طور پر ایک سرکاری گرلز اسکول کی منظوری دی جائے، تاکہ علاقے کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہو سکے اور بچیوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔