پبی (نما ئندہ مانند )ضلع نوشہرہ کے بلدیاتی نمائندوں کا وزیر اعلی کا نوشہرہ آمد پر احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان، تیمور کمال نوشہرہ کے تینوں تحصیلوں کے بلدیاتی نمائندے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرئنگے۔ تیمور کمال بلدیاتی نمائندوں کو منتخب ہوئے چار سال پورے ہونے والے ہیں لیکن ان چار سالوں میں بلدیاتی نمائندوں کو نہ فنڈز ملے اور نہ ہی اختیارت، سید ارشد شاہ ضلع نوشہرہ کے بلدیاتی نمائندوں کا وزیر اعلی کا نوشہرہ آمد پر احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہیں جس میں نوشہرہ کے تینوں تحصیلوں کے بلدیاتی نمائندے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرینگے۔ ٹی ایم اے پبی میں تحصیل پبی، نوشہرہ، اور تحصیل جہانگیرہ کے ممبران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئرمین تیمور کمال، سید ارشد شاہ، شاہ فیصل، محب اللہ شاہ، ڈاکٹر ذولفقار، طاہرشاہ، منیر خان،بلال،فاورق شاہ،ولی مظہر، اور عظمت خان نے شرکت کی بلدیاتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ہم بلدیاتی نمائندوں کو منتخب ہوئے چار سال پورے ہونے والے ہیں لیکن ان چار سالوں میں بلدیاتی نمائندوں کو نہ فنڈز ملے اور نہ ہی اختیارت. وزیر اعلی کو ڈسٹرکٹ نوشہرہ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ احتجاجی کیمپ لگانے کا مقصد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بلدیاتی نمائندوں کے مسائل سے آگاہ کرنا ہیں خیبرپختونخوا میں مقامی حکومتوں کے انتخابات دو مراحل 19 دسمبر 2021 اور 31 مارچ 2022 میں ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا کے مقامی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے عدم دلچسپی کیوجہ سے مفلوج ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات فراہمی کیوجہ سے عوام کو گھر کی دہلیز پر سماجی و میونسپل خدمات کی فراہمی میسیر ہورہی ہیں مگر بد قسمتی خیبرپختونخوا میں سابقہ وزیر اعلی محمود خان کے وقت سے لیکر آج تک مقامی حکومتوں کے ساتھ تاریخ کا بدترین ظلم کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت آئین قانون انصاف کی بات کرتی ہے مگر خیبرپختونخوا میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ آبادی کے منتخب کردہ 29 ہزار سے زیادہ بلدیاتی نمائندوں کیساتھ پی ٹی آئی کے دور حکومتوں میں بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ناروا ظلم شدید نا انصافی کی جا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کو اپنے قانونی آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جو حقوق پشاور ہائی کورٹ میں لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا طویل عدالتی کیس کے بعد جیت چکی ہیں۔ مقامی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کتنے ممبران صوبائی اسمبلی مقامی حکومتوں کے نمایندگان رہ کر صوبائی اسمبلی پنچے ہے مگر خیبرپختونخوا میں جمہوریت کی نرسری کیساتھ جو ظلم کیا جارہا ہے تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی ہے۔ سابقہ وزیر اعلیٰ سردار علی آمین گھنڈاپور نے بلدیاتی نمائندوں کی تنظیم سے متعدد بار مذاکرات کرتے ہوئے مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام، بلدیاتی نمائندوں کو آئینی قانونی حقوق فراہمی کے لیے وعدے کیے جن کے منٹس موجود ہیں مگر افسوس کیساتھ کسی وعدے پر عملی اقدامات نا ہوسکے۔ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے مسائل کے حل میں بلکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں ناہی پی ٹی آئی صوبائی حکومت صوبہ خیبرپختونخوا میں فعال مضبوط مستحکم بلدیاتی نظام کی خواہ ہیں