پشاور( مانند نیوز ) غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی کے زیر اہتمام کے ایم یو آئی ایچ ایس مردان میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں طلبہ و طالبات کو خیبر پختونخوا کے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس نشست کا مقصد نوجوانوں میں معلومات تک رسائی کے قانونی حق، شفاف طرز حکمرانی اور احتساب کے تصور کو فروغ دینا تھا۔تقریب میں ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حامد حبیب، کوآرڈینیٹر نوراللہ قلندر، خطاب شاہ، آئی آر ایس پی کے پروگرام کوآرڈینیٹر و منیجر ایڈووکیسی محمد اسماعیل، پروگرام منیجر عزیز احمد، ناصر خان اور سیدہ نوشین سردار سمیت فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات طلب کرنے کا باقاعدہ قانونی اختیار فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سرکاری محکمہ پبلک انفارمیشن آفیسر مقرر کرنے کا پابند ہے جو مقررہ وقت میں درخواست گزار کو مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔گفتگو کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ معلومات تک رسائی کا حق کرپشن کی روک تھام، اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مقررین کے مطابق باخبر نوجوان نہ صرف اپنے حقوق کا بہتر دفاع کر سکتے ہیں بلکہ وہ معاشرتی اصلاح اور مثبت تبدیلی کے عمل میں بھی فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں طلبہ نے قانون کے عملی اطلاق اور طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے۔ ماہرین نے تفصیل سے رہنمائی فراہم کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی سرگرمیاں جمہوری شعور اور قانونی آگاہی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ آخر میں منتظمین نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے پروگرام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔