تہران (مانند نیوز ڈیسک)اسرائیل اور امریکا نے ہفتے کو ایران پر حملہ کردیا جن میں وہاں کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
کارروائی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تنازع میں دھکیل دیا ہے جس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کے لیے سیکیورٹی خطرات کا خاتمہ کرے گا اور ایرانی عوام کو اپنے حکمرانوں کا تختہ الٹنے کا موقع فراہم کرے گا۔
ان حملوں نے تیل پیدا کرنے والے قریبی خلیجی عرب ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ تہران نے بھی جواب میں اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیںایران نے قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔
بحرین میں ایرانی میزائلوں نے امریکی نیول بیس کو نشانہ بنایا، جفیر کے علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے اور ہنگامی سائرن بج اٹھے، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، دوحہ میں العدید کا امریکی بیس دھماکوں سے گونج اٹھا۔
قطری حکام نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، ابوظبی میں امریکی بیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل سے حملے کیے گئے، کئی میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے، ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا، دبئی مرینہ کے علاقے میں بھی دھماکا سنا گیا۔
ایرانی میزائل روکنے کے لیے عرب امارات نے بیلسٹک میزائل شیلڈ فعال کردی، دبئی ایئرپورٹ سے فلائٹ آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے، ایئر پورٹ پر سناٹے کا راج ہے، آنے جانے والے راستوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
اردن میں مفک السلطی بیس پر ایران نے میزائل حملہ کیا، امریکی افواج کو نشانہ بنایا گیا، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکے سنے گئے۔