پشاور(مانند نیوز )غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی کے پروگرام کوآرڈینیٹر و منیجر ایڈووکیسی محمد اسماعیل نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 صوبے میں شفافیت، جوابدہی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کے ذریعے شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے کا آئینی اور قانونی حق ملا ہے، جو جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔وہ ورٹیکس انسٹیٹیوٹ مردان میں غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی اور ٹی ڈی ای اے کے اشتراک سے منعقدہ پینل ڈسکشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا حق نہ صرف شہریوں کو باخبر بناتا ہے بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔تقریب کے دوران طلبہ و طالبات کو خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے بنیادی نکات، درخواست دینے کے طریقہ کار، معلومات کے حصول کے قانونی تقاضوں اور اس قانون کے عملی فوائد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو اس قانون کے بارے میں آگاہی ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق سے باخبر رہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر ورٹیکس انسٹیٹیوٹ کے ایم ڈی شفیع اللہ، کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عادل خالق، ایڈمنسٹریشن آفیسر زاکر اللہ، آئی آر ایس پی کے ناصر خان اور سیدہ نوشین سردار سمیت فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے طلبہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ معلومات تک رسائی کے حق کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے سماجی شفافیت اور احتساب کے کلچر کو فروغ دیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانانِ گرامی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں جبکہ شریک طلبہ و طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معلومات تک رسائی کے قانون کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور اس کے مؤثر استعمال کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔