شانگلہ(مانند نیوز)ضلع شانگلہ میں حالیہ شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ریسکیو 1122 نے اپنی ایمرجنسی تیاریوں کو مزید تیز کر دیاہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرشانگلہ انجینئر ملک شیر دل خان کی ہدایات پر ضلع بھر میں ریسکیو ٹیموں کی نقل وحرکت بڑھا دی گئی ہیں جبکہ واٹر ریسکیو یونٹس کو مکمل ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو شانگلہ کے مطابق ضلع کے حساس مقامات بشمول بشام، الپوری، پورن، چکیسر اور دریائے خان خوڑ کے کناریپر خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔کشتیوں،لائف جیکٹس،رسیوں، سرچ لائٹس اور ابتدائی طبی امداد کے آلات پر مشتمل ریسکیو کٹس کو چیک کر کے فعال حالت میں رکھا گیا ہیں۔ کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔اہلکار مختلف دیہات اور بازاروں میں جا کر شہریوں کو سیلابی خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ عوام کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ نشیبی علاقوں، برساتی نالوں اور لینڈسلائیڈنگ والے مقامات سے دور رہیں۔ بجلی کے کھمبوں اور ٹوٹی ہوئی تاروں کے قریب نہ جائیں اور بچوں کو پانی کے قریب کھیلنے سے روکیں۔ گاڑی چلانے والوں کو پھسلن اور دھند کے باعث محتاط ڈرائیونگ کی تلقین کی گئی ہیں۔ریسکیو وون وون ٹوٹو نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور مقامی رضاکار تنظیموں کے ساتھ کوآرڈینیشن میٹنگز کی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی انخلاء یا ریلیف سرگرمی میں تاخیر نہ ہو۔ ایمبولینسز اور میڈیکل ٹیمیں بھی اسٹینڈ بائی پر رکھی گئی ہیں۔ڈی ای او ریسکیو ملک شیر دل خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں موسمی انتباہات پر عمل کریں اور افواہوں کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات لیں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر 1122 پر کال کریں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکار چوبیس گھنٹے مدد کے لیے تیار ہیں۔