پشاور(مانند میڈیا) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے نام پر خیبر پختونخوا کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ پختونخوا ہماری سرزمین، شناخت اور تاریخی وراثت ہے اور اس کے جغرافیائی، سیاسی، معاشی و تاریخی تشخص کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔صوبائی کابینہ، صوبائی مجلس عاملہ اور صوبائی کونسل کے تین روزہ اجلاسوں کے اختتام پر کابینہ اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو اے این پی کا واضح موقف ہے کہ ان کی تشکیل قومیتوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے وسائل، زمین اور معدنی دولت پر قبضے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔میاں افتخار حسین نے دہشت گردی کو کسی ایک صوبے، قوم یا زبان سے جوڑنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی اور قومی سطح کا مسئلہ ہے۔ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جبکہ اے این پی کے 1300 سے زائد کارکنان اور رہنما بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بیٹھ کر پختونخوا کے عوام کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے دہشت گردی کے اصل اسباب، سہولت کاروں، پالیسیوں اور ان نیٹ ورکس کا جائزہ لیا جائے جنہوں نے ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔اے این پی رہنما نے کہا کہ پختونخوا کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ غربت، بے روزگاری، محرومی، ناانصافی اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی امن کے نام پر کسی مسلح لشکر، نجی فورس یا غیر ریاستی ملیشیا کے قیام کو قبول نہیں کرے گی۔میاں افتخار حسین کے مطابق عام شہریوں کو مسلح کرکے دہشت گردوں کے مقابل کھڑا کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ ریاست اپنے اداروں کو مضبوط کرے اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری خود ادا کرے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل آئین و قانون کی حکمرانی، پارلیمان کی بالادستی اور تمام اداروں کے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہنے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی 18ویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیا این ایف سی ایوارڈ جلد جاری کیا جائے اور صوبوں کو ان کا آئینی مالی حصہ دیا جائے۔پختونخوا کے وسائل، اختیارات اور مالی حقوق پر سمجھوتے کی ہر کوشش کی سیاسی و آئینی سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔ضم اضلاع کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت ان علاقوں کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ ان کے مطابق محض نقشے میں انضمام کافی نہیں بلکہ حقیقی انضمام کے لیے عوام کو مالی، انتظامی، سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنا ہوں گے۔انہوں نے دہشت گردی اور آپریشنز سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور بے گھر خاندانوں کی باعزت واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ، تباہ شدہ مکانات و کاروبار کی بحالی، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے۔صوبے کی مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ خیبر پختونخوا شدید مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے جبکہ ان کے بقول صوبائی حکومت کی ترجیحات میں عوامی مسائل کے بجائے ایک قیدی کی رہائی نمایاں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد ہر جماعت کا حق ہے تاہم اس کی آڑ میں صوبے کے بنیادی مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے صوبے کی جامعات کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض جامعات اس حد تک مالی بحران کا شکار ہیں کہ اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اعلی تعلیم کے لیے ہنگامی مالی پیکیج اور جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے مستقل منصوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔بلدیاتی نظام کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں ضروری ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور صاف، شفاف، آزاد و غیرجانبدار انتخابات جلد کرائے جائیں۔گندم اور آٹے کے بحران پر انہوں نے کہا کہ سیزن میں صوبے کی ضروریات کے مطابق سرکاری سطح پر گندم نہ خریدنا صوبائی حکومت کی انتظامی ناکامی ہے۔ان کے مطابق پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث پختونخوا میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔تمباکو کے کاشتکاروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اے این پی رہنما نے کہا کہ تمباکو پختونخوا کے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے، تاہم کاشتکار ہر سال کمپنیوں، قیمتوں اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے تمباکو کو باقاعدہ زرعی فصل کا درجہ دینے، کاشتکاروں کو مناسب قیمت فراہم کرنے اور کمپنیوں کی من مانی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونخوا بجلی، گیس، تیل اور دیگر قدرتی وسائل وافر مقدار میں پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود عوام کو لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے وفاق سے بجلی اور گیس کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے واجبات کی فوری ادائیگی اور آئین کے آرٹیکل 161 سمیت متعلقہ آئینی ضمانتوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی بڑی آبادی کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے اور مسلسل بندش سے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ان کے مطابق افغانستان کے ساتھ مسائل کا حل طاقت، محاذ آرائی اور سرحدوں کی بندش نہیں بلکہ سفارتی مذاکرات ہیں۔ انہوں نے حکومت سے قانونی تجارت اور آمدورفت کے راستے کھولنے اور سرحدی تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کسی حکومت کی مخالفت برائے مخالفت نہیں کررہی بلکہ پارٹی کا مطالبہ پختونخوا میں امن، آئینی اختیار، اپنے وسائل پر حق، صوبائی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے