پشاور(مانند میڈیا)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ پولیس کو کسی بھی غلط حکم کی پابندی نہیں کرنی چاہیے۔صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 کے دوران صوبے میں امن قائم ہوا۔وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 2022 میں رجیم چینج اور ریاست کی غلط پالیسی کے باعث خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی آئی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے احتجاج، امن پاسون اور دیگر فورمز پر دہشت گردوں کی دوبارہ آبادکاری کے خلاف آواز اٹھائی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے پولیس کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے اور گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے۔ان کے مطابق رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس فرنٹ فٹ پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے اور حکومت کو پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا احساس ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کے شہداء پیکیج میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز دیے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس کی قربانیوں کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی امن قائم ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے اے پی سیز کی فراہمی کا معاملہ زیر التوا ہے جبکہ صوبائی حکومت ادائیگی کرچکی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے فراہم کردی گئیں تاہم خیبرپختونخوا پولیس کو تاحال اے پی سیز نہیں ملیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق این آر ٹی سی کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں بھی صوبائی حکومت کرچکی ہے۔ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے اور عمران خان کو سیاسی طور پر دباؤ میں لانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کسی پولیس افسر کو غلط حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے یا غلط ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ عمران خان کے وژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کے معاملات اور پوسٹنگ، ٹرانسفر میں مداخلت نہیں کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار نہیں کرنے جارہی بلکہ پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے۔ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے