لاہور (مانند میڈیا) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خطے میں 3 ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کا حصہ تقریباً 48 فیصد ہے، جبکہ 2018ـ19 سے 2024ـ25 کے دوران اس پیمانے پر پاکستان کی غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں آٹے اور اس سے متعلقہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 250 روپے، 5 کلو ہول گرین آٹے کی قیمت میں 15 روپے، 80 کلو میدہ فائن کی بوری کی قیمت میں 1500 روپے جبکہ 50 کلو سوجی کے تھیلے کی قیمت میں 700 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ چکی آٹے کی فی کلو قیمت میں بھی 5 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ، جس سے عام آدمی کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدن نے عوام کو پہلے ہی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، دوسری جانب روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ حکومت کو محض دعووں اور اعلانات کے بجائے عوام کو عملی ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کی اولین ترجیح عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا ہونی چاہیے۔ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور عوام کو ریلیف دے۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے جاری جدوجہد میں مزید تیزی لائے گی۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے جو وعدے کیے ہیں، ان پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور پٹرولیم لیوی کے معاملے میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا تو ملتان سے اسلام آباد مارچ کا آغاز کر دیا جائے گا۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عام آدمی کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر عوامی مشکلات میں اضافہ ملکی معیشت اور سماجی صورتحال کے لیے مزید پیچیدگیاںپیدا کر سکتا ہے۔اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے