پیرس (مانند میڈیا) فرانس میں احتجاجی مظاہروں کے دوران کشیدگی اور تشدد میں اضافہ ہوگیا، ملک بھر میں اب تک 272 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے، کاروباری مراکز میں لوٹ مار اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں، جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے تازہ بیان کے مطابق مشرقی شہر لیون میں تقریباً 20 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہیں، جبکہ نانت میں بھی مظاہرین کی تعداد تقریباً 20 ہزار بتائی گئی ہے۔ شہر رین میں تقریباً 10 ہزار افراد احتجاج کر رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ احتجاجی مارچوں میں نام نہاد ‘بلیک بلاک’ گروہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان گروہوں میں انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران متعدد مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، کاروباری مراکز میں لوٹ مار یا اس کی کوششیں کی گئیں، جبکہ سرکاری عمارتوں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ سکیورٹی فورسز کو پرتشدد گروہوں پر قابو پانے، سرکاری عمارتوں کی حفاظت اور لوٹ مار روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فرانس کے مشرقی شہر لیون میں مظاہروں کے دوران سیاحتی دفتر کی عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے عمارت کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر اور باہر شعلے بھڑک اٹھے۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا، جبکہ اس کی کئی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق بعض ‘پرتشدد عناصر’ فائر فائٹرز کو محفوظ طریقے سے آگ بجھانے سے روک رہے تھے۔ پولیس اہلکار صورتحال پر قابو پانے اور مشتعل گروہوں کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسری جانب دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین اور انسدادِ ہنگامہ آرائی پولیس کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین پانی کی تیز دھاروں سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ رپورٹس کے مطابق دن بھر مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، جس کے باعث متعدد علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ حکام نے پرتشدد واقعات کی روک تھام اور عوامی و سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے۔