پشاور ( مانند نیوز) خیبر پختونخوا میں فیم کنسور شیا کا آغاز کردیاگیا اس حوالے سے فیم کنسورشیا خیبر پختونخوا کی افتتاحی تقریب پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی تقریب سے مختلف سماجی تنظیموں کے رہنمائوں محمد عارف ٗاے بی پی اے ڈبلیو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بشری رحیم ٗ سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مردان سے تعلق رکھنے والی نگہت سیما ٗ اجالا سحر کی نسیم اختر ٗ دیوا دیر لوئر کی نجمہ فلک ٗخواتین محتسب خیبر پختونخوا کی نمائندہ مس ناز اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیم کنسورشیا خواتین کے حقوق پر کام کر رہی ہے جس کی اولین ترجیح اور مقصد خواتین کو زندگی کے ہر میدان میں بااختیار بنانا ہے تاکہ خواتین اپنے پائوں پر کھڑی ہوسکیں فیم کے مقاصد میں خواتین کے بنیادی حقوق معاشرتی معاشی سیاسی حقوق اور خواتین کیلئے ہر میدان میں آسانیاں پیدا کرنا ہے اور سیاسی میدان میں خواتین لیڈرز کی استعداد کار کو بڑھانا ہے تاکہ خواتین ایک پرسکون زندگی گزار سکیں خواتین اپنے مسائل پر بات کرسکیں اور اپنی روایات اور کلچر کے مطابق خواتین کے مسائل حل کئے جاسکیں انہوں نے کہا کہ فیم کنسورشیا میں شامل تنظمیں خواتین کی ہر سطح پر استعداد کار بڑھانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے نچلی سطح پر خواتین کی معاشی حالت بہتر بنانے ٗخواتین کا انتخابی عمل میں حصہ لینے اور ورکنگ وویمن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے پر بھرپور طریقے سے کام کیا جارہا ہے مقررین نے کہا کہ خواتین ملک کی ٹوٹل آبادی کا 51فیصد ہے لیکن ملازمت ٗکاروبار میں خواتین کی شرح انتہائی کم ہے خواتین کا مردوں پر معاشی انحصار ہوتا ہے جس کی وجہ سے باصلاحیت خواتین ٹیلنٹ ضائع ہورہا ہے فیصلہ سازی کے حوالے سے خواتین کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے خواتین کو بنیادی حقوق تک حاصل نہیں فیم کنسور شیا خواتین کے حقوق کی 12 تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد ہے جو پاکستان میں خواتین کو متاثر کرنے والے مختلف مسائل پر تعاون اور اجتماعی طور پر کام کرنے کے لیے اکٹھا ہوا ہے خواتین ا کے مسائل کے حل اور حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے لوکل گورننس کو آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ خواتین قیادت آگے آئیں ایس ڈی اوسے تعلق رکھنے والی نگہت سیما نے کہا کہ کم عمری کی شادیاں بند کی جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیںحکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے قوانین بنائے ہیں لیکن ضرورت ان پر عملدرآمد کی ہے دیوا دیر لوئر کی نجمہ فلک نے کہا تبدیلی بہت ضروری ہے کنسور شیا کی کاوشوں کی بدولت قیادت نوجوان خواتین کے ہاتھوں میں منتقل ہوچکی ہے جو کہ فیم کنسورشیا ایک بڑی کامیابی ہیخواتین محتسب خیبر پختونخوا کی نمائندہ مس ناز نے کہا کہ خواتین کے کام کو تسلیم کیا جانا چاہیے صنفی مساوات پر یقین رکھتے ہیںخواتین کو کام کی جگہ پر دوستانہ ماحول فراہم کرنا چاہیے خواتین کو ہراسانی کیواقعات کے حوالے سے اپنی شکایات درج کرنی ہوگی تاکہ مجرموں کا احتساب کیا جاسکے تاکہ کام کی جگہ کو دوستانہ بنایا جاسکے ماضی میں ہم نے ڈی سیز کو بھی جوابدہ بنایاانہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کو متناسب نمائندگی دی جائے تاکہ جمہوریت کو جامع بنایا جا سکے

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے