پبی (مانند نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنر ل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ کی عوامی جذباتی ہے شاید عمران خان کو یکے بعددیگر تین کیسز میں سزا ہونے کی وجہ سے شاید عوام نے اپنے جذبات کا اظہار ووٹ کے ذریعے کیا پنجاب میں وہی نتیجہ ایا جو نواز شریف چاہتے ہے سندھ میں وہی نتیجہ ایا جو پیپلز پارٹی چاہتی تھی اور ایم کیو ایم کو بھی وہی میندیٹ ملا جس کی انہیں ضرورت تھی سارا نزلہ تیسری بار خیبر پختون خواہ پر گررہا ہے شاید نتائج تبدیل کیے گئے ہوں جس کے ٹھوس ثبوت نہیں ہے پرویز خٹک خود کو ہر جلسے میں دلد لیل کے ساتھ وزیراعلی پیش کررہے تھے سرکاری مشینری اور فنڈز کو بھی استعمال کررہے تھے جس طریقے سے وہ فرعونیت دیکھا رہا تھا اس کے بت کو ہم نے توڑ دیا لیکن پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی جیت حیران کن تھی اخری دس دنوں میں انہوں نے کمپئین شروع کی کچھ چند جلسے کیے اور ان کے امیدوار بھی عوام میں اتنے مقبول نہیں تھے اور نہی ہی ان کے پاس پولنگ ایجنٹس تھے اس کے باوجود بھاری اکثریت سے ان کے امیدواروں کی جیت حیران کن ہے میرے الیکشن کے تجربے میں مطابق حلقہ پی کے 89میں عوامی نیشنل پارٹی گراؤنڈ ریالٹی میں سب سے اگے ہونی چاہے تھی جبکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ازاد امیدوار کا دوسران نمبر ہونا تھا حقیقی معنوں میں اگر ان کو عوام نے ووٹ ڈال ہے تو ہم انہیں مبارک باد پیش کرتے ہے لیکن دال میں کچھ کالا بھی ہوسکتا ہے میں اپنے حلقے کے تمام کارکنوں اور غیور عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری پوری کمپئین چلائی اور مجھے ووٹ دیے وہ پبی پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر اے این پی تحصیل پبی کے صدر زرعلی خان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی کے 89حلقہ کے متعلق ہم شروع دن سے شکایت کرتے رہے کہ یہاں پر پرویز خٹک اور ان کے ٹولے نے ابتدائی دنوں سے جب سے الیکشن کا شیڈول کا اعلان ہوا سرکاری مشینری کو استعمال کرنا،فنڈز استمعال کرنا نوشہرہ کی انتظامیہ نے انہیں مکمل سپورٹ کیا ہم نے بڑی تکیلف دہہ کمپئن کرنا پڑی اس دفعہ کمپئین کرنا بھی مشکل تھا جس گاؤں میں جاتے وہاں پر بجلی کے کھمبے،سڑکیں وغیرہ بننا ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی اپنی حکومت ہے اس کے علاوہ لوگوں کو ٹرانسفر کرکے اور ڈرا دھمکا کر اپنی پارتی میں شامل کرنا اور انتظامیہ کو بھی خود اس نے منتخب کرکے یہاں پر ٹرانسفر کروائیں اس کے علاوہ تین ڈی ایس پی کو بھی یہاں پر تعینا ت کروایا فی میل ای ڈی او کو انہوں نے ڈرایا دھمکایا ایسا ماحول پیدا کیا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم سرکار کی مشینری سے لڑ رہے جبکہ ڈی ای او مردان نوشہرہ اپنے پی ایس او کے داماد اختر علی،سیف اللہ،حیدر علی اور دیگر اے ڈی اوز کے زریعے اپنے من پسند انتخابی عملے کی ڈیوٹی لگ وائی اور انہی کو ای ار او تعینات کروایا الف سے لیکر یہ تک تمام لوگوں کی ڈیوٹی انہوں نے اپنی مرضی پر لگائیں اور الیکشن کی رات تک کو بھیا انہوں نے لوگوں کی ڈیوٹی بدلی اور دیگر لوگوں کو لگایا اس حوالے سے پرویز خٹک کے خلاف نہ مرکزی الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور نہ ہی صوبائی الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا انہوں نے کہا کہ معلوم نہ ہوسکا پی ٹی ائی نے دس دن قبل کمپئینش شروع کی تھی اور ازاد امیدوار ان کی طرف سے کھڑیں تھی اور ازاد امیدوار لوگوں میں مقبول بھی نہیں تھا لوگ انہیں جانتے بھی نہیں تھے اور دوسرا کمپئین بھی اتنی نہیں تھی چند جلسے انہوں نے کیے ہوں گے ان کی پولنگ ایجنٹس بھی کم تھے ہم یہ سمجھ رہے تھے شاید پی ٹی ائی اگر ائیں گی بھی تو دوسرا نمبر پر ائیں گی پہلے نمبر پر ہم ہوں گے ہم چونکہ الیکشن کا تجربہ رکھتے تھے اور ہمار ا خیال تھا کہ دس ہزار ووٹ سے می جیتوں گا لیکن نتائج ہمیں حیران کردیا گیا کہ پی ٹی ائی کہاں سے ائی اس نتیجہ کو حیران کن کہا جاسکتا ہے ہمارے ساتھی اس بارے میں معلومات حاصل کررہے کچھ اپنی معلومات بھی جمع کر رہا ہوں انہوں نے حقیقی معنوں میں اگر یہ الیکشن جیتا ہے تو ہم انہیں مبارک باد پیش کرتے ہے لیکن یہ بات ضرورہے ہم سجھتے ہے کہ شاید اتنی انہونی ہوں گئی ہے ایسا لگ رہا کہ دال میں کچھ کالا ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ 2018میں جو الیکشن ہم نے جتیا تھا ہماری جیتی گئی بازی ان لوگوں نے الٹ دی اس کے ثبوت ہمارے پاس تھے اور 2013میں ہمیں الیکشن کمپئین کرنے نہیں دیا گیا انہوں نے کہاکہ کہ دھاندلی ہوسکتی ہے جس کے ٹھوس ثبوت نہیں ہے مگر ایسا بھی ہوسکتا ہے کوئی دھاندلی کی گئی ہوں ریگنگ کے ثبوت نہیں ہے اور اس حیران کن نتیجہ کے پیچھے کچھ بھی ہوسکتا ہے جس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوں گا پرویز خٹک کے خلاف ہمارے ساتھ شواہد تھے جس طریقے سے وہ سرکاری فنڈز کو استعمال کررہا تھا اور بول رہا تھا کہ ازاد لوگ بھی میرے ساتھ رابطے میں ہے وہ شواہد موجود تھے کہ پرویز خٹک کو انے والے حکومت کے لیے تیار کیا جارہا ہے پی ٹی ائی کے لوگ گراؤنڈ میں نظر نہیں ارہے تھے میں اس وجہ سے حیران ہوں وہ جیتے تو کیسے جیتے اگر صیحح طور پر جیتیں ہے تو ان کو مبارک باد پیش کرتے ہے خیبر پختون خواہ ازاد امیدواروں کی اکثرت ہے یہاں پر مخصوص نشستوں کو بھی یہ پر کریں گے شاید یہ لوگ عدالت چلے جائیں الیکشن کمیشن کے رولز کے مطابق یہ حکومت اگے چل نہیں سکیں گی حکومت بنانے کا طریقہ کی تعداد بہت پیچدا بظاہر ان کے لیے بڑی مشکل نظر ارہا ہے یہ حکومت چلے گی تو کیسے چلی گی یہ لوگ کسی بھی پارٹی میں جاسکتے ہے لیکن اپنی پارٹی ابھی ان کی نہیں اور اپنی پارٹی کا نام استعمال نہیں کرسکتے ہے خیبر پختون خواہ میں ان کو حکومت بنانے میں کافی مشکلات درپیش ہوں گی