شانگلہ(مانند نیوز ) شانگلہ کے قومی نشست این اے11کے نتائج بدستور متنازع۔ کشمکش برقرار۔ ای سی کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے باوجود صورتحال واضح نہ ہو سکی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے مختلف بیانات جاری ہیں۔ ہائی کورٹ کے بعد پی ٹی آئی رہنما حاجی سید فرین خان کا سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن اوراسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی تاہم اسلام آباد نے معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہونے پر درخواست مسترد کردی۔ الحاج سید فرین خان اپنے موقف پر قائم این اے 11 شانگلہ کی نتائج کا فیصلہ فارم 45 کے مطابق کیا جائے تو مانیں گے اراونے فارم45 کے مطابق فارم 47 نہیں بنایا ان کے مطابق 13حلقوں میں زبردست دھاندلی کی گئی اور فارم 45 کو تبدیل کیا گیا جسے وہ نہیں مانتے، ان کے پاس تمام پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 موجود ہیں جس میں ان کو امیر مقام پر واضح برتری حاصل ہے۔نہ نتیجہ تسلیم کریں گے اور نہ ہی اس دھاندلی شدہ انتخابات کے کسی بھی نوٹیفکیشن کو نہیں مانتا۔ حاجی سید فرین خان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن میں بھی این اے11میں ہونے والی بدترین دھاندلی کے حوالے سے پٹیشن دائر کر دی ہیں جس میں ان کے وکیل بابر عوان نے گزشتہ روز واضح طور پر بتایا کہ این اے 11 میں فارم 45 کے مطابق ان کا نتیجہ دیا جائے۔ گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ نے اس انتخابی حلقے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر دیا تھا جو جمعے کے روز جاری کیا گیا فیصلے میں کہا گیا الیکشن کمیشن اور متعلقہ آر او فارم 45 کے مطابق فارم47 بنائیں اور فارم48اور 49کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔۔