شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے قومی نشست این اے11شانگلہ مبینہ دھاندلی کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت۔درخواست گزار حاجی سید فرین خان اور ان کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، درخواست گزار کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ خواتین کے ایک پولینگ سٹیشن معروف خیل میں ووٹنگ نہیں ہوئی جیتنے والے امیدوار کو 600 ووٹ کیسے ملے۔الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسراین اے 11 کو26 فروری کو طلب کرلیا۔ کمیشن نے این اے11 کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کر دیا۔ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماء، بزرگ سیاستدان الحاج سیدفر ین خان کا کہنا تھا کہ اس حلقے پر مکمل طور پر دھاندلی ہوئی اور سرکاری مشینری کو بروئے کار لا کر نتائج کو تبدیل کیا گیا اس کے خلاف وہ الیکشن کمیشن، اعلیٰ عدلیہ اور دیگر فورم سے رابطہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ فارم 45 میں ار او نے اس تمام تر نتائج کو یکسا تبدیل کر کے ان کے حریف امیر مقام کو بدترین دھاندلی کر کے جتوایا۔ الحاج سید فرین خان نے و اضح کیا کہ وہ الیکشن کمیشن اور عدالت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فارم 45 کے مطابق ان کو نتیجہ دیا جائے کیونکہ فارم 45 کے ساتھ موجود ہے اور اس میں وہ واضح برتری میں ہیں۔ اس موقع پر اس کے ہمراہ شاہ روز خان اور گل ہنزیب بھی موجود تھے۔الحاج سید فرین نے واضح کیا کہ شانگلہ کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور وہ عوامی مینڈیٹ سے رکن قومی اسمبلی ہے تاہم مخالف امیدوار امیر مقام نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر نتائج کو دھاندلی کے ذریعے تبدیل کیا جسے وہ اور اس کی جماعت، سپورٹراور ووٹرز نہیں مانتے۔ الحاج سید فرین خان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے شانگلہ کہ قومی نشست این اے11 پر انھوں نے 60066 جبکہ ان کے حریف امیدوار امیر مقام نے 48 ہزار 42 ووٹ حاصل کیا ہے جس میں 12024 پر انہیں برتری حاصل ہے۔ شانگلہ کی عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے یہاں 23سال سے برسر اقتدار مافیا کو مکمل طور پر مسترد کیا تاہم سرکاری مشینری کو برا کار لاکر نتائج تبدیل کی جسے پی ٹی ائی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امیر مقام نے ہمیشہ سے شانگلہ میں دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا مگر اس مرتبہ یہ نہیں ہوگا وہ اب مزید یہ کھیل برداشت نہیں کریں گے۔الحاج سیدفرین نے مزید کہا کہ امیر مقام نے 51 پولنگ سٹیشن کے نتائج تبدیل کرکے دھاندلی زدہ فارم 47 بنایا جن کو ہم نہیں مانتے۔۔