شانگلہ(مانند نیوز ) شانگلہ کا موسم سردتاہم سیاسی درجہ حرارت بدستور گرم، این اے11 میں مبینہ دھاندلی کیس 26 فروری کو الیکشن کمیشن میں سماعت ہوگی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مختلف بیانات کا سلسلہ جاری ہیں۔ شانگلہ کی قومی نشست این اے11سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار الحاج سید فرین خان اپنے موقف پر قائم ہیں۔ شانگلہ میں عوامی مینڈیٹ کو چینا گیا ہے اس پر ڈاکہ ڈالنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے فارم 45 کے مطابق وہ شانگلہ سے جیتے ہیں۔ اس وقت اعلیٰ عدالتوں اور الیکشن کمیشن سے انصاف کی اُمیدکرتے ہیں شانگلہ کے عوام نے ان کو مینڈیٹ دیا ہے اور ان کو رکن قومی اسمبلی منتخب کیا جبکہ مخالف میں امیدوار نے عوامی مینڈیٹ کی تذلیل کرتے ہوئے سرکاری مشینری کی زور سے نتائج کو تبدیل کیا جس کو وہ نہیں مانتے وہ فارم 45 کے مطابق اپنے حریف امیر مقام پر 12 ہزار 24 ووٹ کے برتری پر ہے۔ 51 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 میں رد و بدل کی گئی اور انتظامی مشینری کے ذریعے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں شانگلہ کے عوام نے یہاں 22 برس سے اقتدار میں رہنے والے ٹولے کو مسترد کیا اور پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیاہیں حاجی سید فرین خان نے واضح کیا کہ وہ اپنے ووٹر، سپورٹر اور کارکنان پر ہونے والے ظلم،تشدد اور شہادتوں کاحساب لیں گے۔۔