وانا (مانند نیوز) موسی نیکہ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے سکول داخلہ مہم اور شجر کاری مہم واک کا انعقاد کیا گیا، جسمیں جنوبی وزیرستان لوئر کے تحصیل چیئرمین مولانا صالح وزیر، قبائلی عوام، اسکولوں کے بچوں، علمائے کرام، تاجر برادری، میڈیا کے نمائندوں، ڈرگ ایسوسی ایشن، وانا کونسلرز اتحاد، نوکر پیشہ سرکاری آفیسرز، محکمہ جنگلات کے ذمہ داران، تنظیم کے متحرک ٹیم نے شرکت کی، پیدل مارچ وانا پریس کلب سے شروع ہو کر رُستم بازار کے اخری سرے پر جلسے کی شکل اختیار کی۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جس پر مختلف نعرے درج تھے، "پودا لگانا ہے درخت بننا ہے، درخت ہونگے تو ہم ہونگے”، "درخت لگائیں وزیرستان بچائیں”۔ مارچ کے شرکاء کی موجودگی میں دو نکاتی متفقہ و مشترکہ قرارداد پیش کرکے پاس ہوئی۔ قرارداد کے مطابق حکومت شجرکاری /جنگلات کی فروغ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر مکمل پابندی، اور تمام گورنمنٹ اداروں کو فوری طور پر فنکشنل کیا جائے۔ شجر کاری مہم کا اغاز تحصیل چیئرمین مولانا صالح وزیر، مولانا شمس الرحمن وزیر، ملک شہریار وزیر اور جمیل وزیر نے پریس کلب وانا میں پودا لگا کر کیا گیا۔ اہلیان جنوبی وزیرستان لوئر نے ”موسیٰ نیکہ ویلفیئر ایسو سی ایشن ” کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دے کر اس بات کا عہد کیا کہ قبائلی عوام تنظیم کے پشت پر کھڑی رہے گی۔ تاہم مقامی انتظامیہ کے کسی آفیسر کی عدم شرکت کو بعض قبائلیوں کو شک میں مبتلا کرتے ہوئے کہا کہ جو کام سرکار کے ذمہ ہیں وہ قبائلی بڑے اور بچوں نے سر انجام دیا۔ اس موقع پر تحصیل چیئرمین مولانا صالح وزیر نے کہا کہ اگر ہم پودے لگائیں گے اور درخت کا روپ اختیار کریں گے، پودے اور درخت زمین پر تنوع کو بڑھاتے ہیں، ان کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے۔ پودے اور درخت زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں، جو ہوا کی صفائی کے لیے بہت ضروری ہے۔ جنگلی علاقوں میں پانی کی بہتر بچت ہوتی ہے، جو خشک ریاستوں کے لیے بہت اہم ہے۔ پودے اور درخت ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پودوں اور درختوں کا روپ پرندوں کے لیے اہم رہتا ہے، جو ایک زندگی بخش تجربہ ہوتا ہے۔ انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم ماحول کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پودے لگانے اور درختوں کی نرسری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ملک جمیل وزیر نے کہا کہ ہر بچہ کو تعلیم کا حق ہونا چاہئے اور ہر بچے کو سکول بھیجا جانا ضروری ہے۔ تعلیم سے بچے کو ترقی اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل ہوتی ہے، جو انہیں مستقبل میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ تعلیم سے بچے علم و فن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم بنیادی طور پر معاشرتی اور معنوی ترقی کی راہ میں بہت اہم ہے۔ تعلیم سے بچے کی فکری ترقی ہوتی ہے، جو انہیں بہتر فہم و فہم کی صلاحیت دیتی ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے