شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ میں پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات کھل کر سامنے اگئی، پی ٹی ائی قائد عمران خان کی کال پرالپوری چوک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں کئی اہم رہنما منظر عام سے غائب رہیں پارٹی کے اہم پوزیشن رکھنے والے رہنماؤں کے کوئی بھی نمائندہ احتجاج میں شریک نہیں ہوا صرف چند افراد نے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی صدر الرحمن، حبیب الرحمن اور دیگر کے ہمراہ احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اٹھ فروری کے انتخابات کے بعدشانگلہ میں نو فروری کے واقعات کے بعد پی ٹی ائی کے کارکنان میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے جس کے واضح ثبوت گزشتہ روز عمران خان کی کال پر الپوری چوک میں کارکنان کی عدم شرکت تھی۔ پی ٹی ائی شانگلہ سب سے مقبول سیاسی جماعت تھی تا ہم الیکشن ٹکٹ کی تقسیم کے بعد یہاں اختلافات شروع ہوئے اور پارٹی کے اہم پوزیشن پر بیٹھے رہنما ؤں نے اپنی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا جس کے بعد ان کو شانگلہ بے پر نقصان کا سامنا ہوا۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ منتخب لوگ صرف اپنی ذاتی پروٹوکول گاڑیوں اور مرات کے لیے تگ و داؤ اور کارکنان کی پارٹی کیلئے جذبات پر پاؤں رکھ کر اپنے دفاتر اور گاڑیوں کی بحالی کرارہے ہیں جسکی وجہ سے پارٹی کارکنان شدید تحفظات لے کر مایوس ہیں۔ آٹھ فروری کو شانگلہ میں انتخابات ہوئے اور نو فروری کو تحریک انصاف کے بزرگ رہنما اور اس کے امیدوار حاجی سید فرین خان کی کال پر ہزاروں کارکنان شانگلہ کے صدر مقام الپوری پہنچے جہاں وہ پولیس کے ساتھ تصادم شروع ہوئی جس میں تحریک انصاف کے دو ورکر شہید ہوئے جس کے بعد صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی تو تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان پرجوش نظر ائے اور ان کا ہر جگہ یہی کہنا تھا کہ وہ حکومت بننے کے فوری بعد شانگلہ میں ان کے ساتھ ہونے والی ظلم و اور نہتے معصوم کارکنان کی شہادتوں،امتیازی اور ناروا سلوک، تھری ایم پی او میں بندش سمیت ان کے ساتھ ہر غیر قانونی اور ذاتی فعل کا حساب لیں گے مگر تقریبا تین مہینے ہونے کے باوجود اب تک شانگلہ میں ایسا کوئی بھی ایک اقدام نظر نہیں آیا جس سے کارکنان اپنے ساتھ ہونے والی ذیاتیوں کا انتقام لے سکیں۔ آئے روز سوشل میڈیا پر پی ٹی ائی کارکنان شدید تحفظات اپنے اپنے قائدین سے شدید تحفظات لے کر سوالات کرتے ہیں مگر پی ٹی ائی کی بدقسمتی تھی کہ شانگلہ کے تین صوبائی حلقوں میں صرف ان کو ایک نشست ملی اور قومی اسمبلی کی نشست بھی نہ مل سکی جس کے باعث نہ صرف ایک موثر آواز نہ بن سکی اور پی ٹی ائی کارکنان کی شانگلہ میں ہونے والی حق تلفیوں اور ان کو ذاتی طور پر ہیرا سا کرنے،تین ان پیوو دیگر مختلف اوقات میں گرفتار کرنے الیکشن کیمپین کے دوران اجازت نہ دینے یا دیگر کہیں مواقوں پر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کوئی بھی واضح اقدام نظر نہیں آیا۔ شانگلہ میں پاکستان تحریک انصاف اس وقت جہاں مختلف گروپس میں تقسیم ہے وہاں دوسری طرف یہ جماعت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں اس کا ایک گروپ جو شانگلہ سے شروع سے مختلف سیاسی جماعتوں میں سیاست کرتا آیا ہے الحاج سید فرید اور ان کے خاندان کے افراد ایک حد تک یہ چیز چلا رہے ہیں مگر دوسری طرف کانا، پورن، چکیسر اور دیگر علاقوں میں یہ جماعت روز بروز مایوسیوں کی طرف جا رہی ہیں جو اس جماعت کے رہنماؤں کے لیے باعث فکر ہوناچاہیے۔۔