شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں بجلی کی بدترین کریک ڈاؤن‘رات سے وادی شانگلہ اور کوٹکی گریڈ سٹیشن سے منسلک علاقے تاریکی میں ڈوب گئے‘ جمعہ کو بجلی مکمل طور پر بند ہونے سے بجلی پر چلنے والی کاروبار ٹپ ہو کر رہ گیا، ہسپتال اور سرکاری دفاتر میں بجلی کی بندش کے باعث کام میں دوشواریوں کا سامناکرناپڑا، ضلع بھر کے دور دراز سے انے والے ساحلین رول گئے، بجلی بندش سے عوام پریشان۔جمعرات اور جمعہ کے درمیانی شب دو بجے بند ہونے والی بجلی جمعہ کے عصر تک بحال نہ ہو سکی۔ شانگلہ میں واپڈاکی جانب سے نادر یغ لوڈ شیڈنگ اور اب بجلی کریک ڈان برداشت سے باہر ہو گیا۔ شانگلہ میں بارش شروع ہوتے ہی واپڈ بجلی بند کر لیتی ہیں حسب معمول چھٹی کے دن اور خاص طور پر ہفتہ و اتوار شانگلہ میں بجلی مکمل طور پر بند ہوتی ہے جیسے سرکاری دفاتر بند ویسی ہی شانگلہ میں یہ دودن واپڈا بجلی کی چھٹی ہو جاتی ہیں۔ بجلی لوڈ شیڈنگ اور اب بجلی کی بدترین کریک ڈان سے شانگلہ کے تاجر بالخصوص چھوٹے مشینری پر کام کرنے والے دکاندار، ہسپتالوں، لیبارٹریز ایکسرے اور سرکاری و نجی دفاتر میں بجلی پر کام کرنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ضلع بھر کے دور افتادہ علاقوں سے انے والے ساحلین اور لوگوں کو بجلی کی بندش سے شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے شانگلہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ یہاں کے مکین بل نہیں دیتے تا ہم دور افتادہ علاقوں تک بجلی کی فراہمی کے بعد بلنگ کا مسئلہ شروع ہو چکا ہے کیونکہ ان علاقوں تک رسائی بلنگ کی تقسیم میں اتھارٹی کو مشکلات درپیش ہیں کیونکہ سٹاف کی کمی سب سے بڑی مسئلہ ہے۔ اس وقت شانگلہ میں 12 سے 15 گھنٹے تک بجلی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور اکثر اوقات مکمل طور پر بجلی کریک ڈان ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے جامعہ پلاننگ بالائی علاقوں میں بلنگ سمیت 1993میں بچائی گئی بجلی ٹرانسمیشن لائن بھی ہے۔۔