جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کے سرکاری اسپتالوں میں فنڈز اور ضروری عملے کی عدم دستیابی کے باعث صحت کی سہولیات کا فقدان شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں جیسے پشاور، مردان، سوات، ایبٹ آباد، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور کوہاٹ کے ٹیچنگ اسپتالوں کے لیے فنڈز اور پروفیسرز کی کوئی کمی نہیں اور نئے میڈیکل کالجز اور اسپتال تیزی سے قائم کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف وزیرستان کے اسپتالوں میں بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی اسپتال میں عملے کی کمی، ڈاکٹرز کی محدود تعداد اور فنڈز کی قلت کی وجہ سے اسپتال بند ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق شیخ فاطمہ اسپتال شولام کے حالات خراب ہیں اور ضلعی ہیلتھ آفیسر (DHO) کی جانب سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ضلعی ہیلتھ آفیسر نے کبھی اس اسپتال کا دورہ نہیں کیا، اور وہاں کے حالات سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔عوام کی شکایت ہے کہ جب صوبے کے دیگر بڑے اسپتالوں کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں تو وزیرستان کے عوام کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 77 سال سے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر سول انتظامیہ، ڈی ایچ او جنوبی وزیرستان لوئر کے غریب عوام کے فنڈز کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث مقامی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عوامی مطالبہ ہے کہ وزیرستان کے اسپتالوں کے لیے فوری طور پر فنڈز اور عملے کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ یہاں کے لوگوں کو بھی بہترین طبی سہولیات میسر ہو سکیں۔ اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر ہر فورم پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جنوبی وزیرستان لوئر کے اسپتالوں کی حالت زار بہتر ہو اور عوام کو ان کا جائز حق مل سکے۔