پبی (نما ئندہ ماںںد ) جما عت اسلا می کا لا ہور اجتما ع حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثا بت ہو گا 21 تا23 نو مبر مینار پا کستان اجتما ع میں لا کھوں افراد شر کت کر ینگے حکمران پا کستان کے تبا ہی کے ذمدار ہیں مر کزی اور صوبا ئی حکو متوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے امریکہ اور ما لیا تی اداروں کی غلا می پر دونوں کا اتفاق ہے ان خیا لات کا اظہارجماعت اسلامی تحصیل پبی کے امیر،نائب قیم ضلع نو شہرہ غلام نبی سینانے اپنے آفس میں میڈیا کے نما ئندوں سے بات چیت کر تے ہو ئے کیا انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل پر اشرافیہ قابض ہے جبکہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام 21، 22 اور 23 نومبر کو منعقد ہونے والے تین روزہ اجتماع عام کی دعوتی مہم کے سلسلے میں میڈیا سے بات چیت کی انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ایک ایسے نظام کا قیام ہے جس میں انصاف، مساوات اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان مسائل کا حل صرف اسلامی فلاحی نظام کے نفاذ میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نظام درست کرنا ہے تو چہروں کی تبدیلی کے بجائے نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔ ملک پر گزشتہ پچھتر سالوں سے کبھی فوجی آمروں اور کبھی مختلف سیاستدانوں نے حکومت کی، مگر کسی نے بھی عوام کی ترقی اور معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔غلام نبی سینانے کہا کہ ناقص معاشی پالیسیوں اور کرپشن کے باعث آج ملک 75 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور ہر پاکستانی شہری پر تقریباً تین لاکھ روپے کا قرضہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے پناہ نعمتوں سے نوازا گیا ہے۔ ملک کی زمین زرخیز ہے، معدنی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، اور اگر ان وسائل کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔غلام نبی سینانے کہا کہ جماعت اسلامی ایک ایسا عادلانہ اور اسلامی نظام لانے کی جدوجہد کر رہی ہے جو عوام کو انصاف، خوشحالی اور عزت دے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے تین روزہ اجتماع عام (21 تا 23 نومبر)میں بھرپور شرکت کریں اور نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کا حصہ بنیں تاکہ ملک میں ایک منصفانہ اور پائیدار تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکے۔