اسلام آباد (مانند نیوز)متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں اسپتالوں نے سرخ، خارش زدہ اور متعدی آنکھوں کے انفیکشن کنجیکٹیوائٹس کے مریضوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہورہا ہے۔ ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ماحولیاتی عوامل، طرزِ زندگی اور خود علاج کے رجحان کی وجہ سے ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق سب سے زیادہ کیسز وائرل کنجیکٹیوائٹس کے ہیں، اس کے بعد الرجی اور بیکٹیریا سے پھیلنے والے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خود تشخیص اور غیر نسخہ شدہ آئی ڈراپس کا استعمال بیماری کو بگاڑ سکتا ہے، اینٹی بایوٹک ریزسٹنس پیدا کر سکتا ہے اور بعض اوقات مستقل بینائی کے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے
ہفتے میں دو مرتبہ دہی کھانے سے آنت کے کینسر کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، تحقیق
آنکھوں کی تکالیف، بیماریاں
دبئی کا موسم، مسلسل ایئر کنڈیشننگ، دھول، ریت اور اسکرین کا زیادہ استعمال آنکھوں کو مزید حساس بنا رہا ہے۔ اسکولوں، دفاتر اور جم جیسے مشترکہ ماحول میں انفیکشن تیزی سے پھیل سکتا ہے، جبکہ کانٹیکٹ لینسز کی ناقص صفائی خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔

ڈاکٹرز نے زور دیا کہ اگر علامات 24 سے 48 گھنٹے سے زیادہ برقرار رہیں، تیزی سے بڑھیں یا درد، دھندلا پن اور زیادہ اخراج کے ساتھ ہوں تو فوراً ماہر سے رجوع کریں۔

بچاؤ کے لیے بار بار ہاتھ دھونا، آنکھیں نہ رگڑنا، تولیے یا آئی ڈراپس شیئر نہ کرنا اور انفیکشن کے دوران کانٹیکٹ لینز کا استعمال روک دینا ضروری ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ بیماری جسمانی رابطے سے پھیلتی ہے اور یہ ایک غلط فہمی ہے کہ صرف دیکھنے سے وائرل کنجیکٹیوائٹس ہو سکتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے