جنوبی وزیرستان (مانند نیوز ) سابقہ فاٹا یعنی ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 16 طلبہ نے شمالی علاقہ جات سوات، گلیات اور کاغان کا تین روزہ مطالعاتی دورہ مکمل کر لیا۔ اس دورے کا مقصد نوجوانوں کو ملک کے خوبصورت علاقوں سے روشناس کرانا، تعلیمی و ثقافتی آگاہی فراہم کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔اس مطالعاتی دورے میں باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان لوئر (وانا) تک مختلف ضم شدہ اضلاع کے طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ نے اس موقع پر ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو تعمیری اور مثبت مواقع میسر آ رہے ہیں۔طلبہ کا کہنا تھا کہ ایسے مطالعاتی دورے نہ صرف ان کے تعلیمی تجربات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مختلف ثقافتوں اور علاقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان اور ان کی ٹیم نوجوانوں کی فلاح و بہبود، صلاحیتوں کے فروغ اور ترقی کے لیے مسلسل عملی اقدامات کر رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہیں۔ طلبہ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رہیں گی تاکہ قبائلی نوجوان ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
قبائلی عمائدین نے بھی ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قبائلی اضلاع کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز کو مزید فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ قبائلی اضلاع میں اس طرح کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکیں۔