شانگلہ (مانند نیوز) شانگلہ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مبینہ طور پر 1095 سرکاری ملازمین کی جانب سے امدادی رقوم وصول کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہیں جس کے بعد متعلقہ حکام نے رقوم کی واپسی کا عمل شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہیں۔ اس پیش رفت نے نہ صرف شانگلہ بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہیں بلکہ عوامی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آ رہا ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں ایسے سرکاری ملازمین کے نام شامل ہیں جنہوں نے مستحقین کے لیے مختص امدادی رقم حاصل کی۔ حکام کا مؤقف ہیں کہ سرکاری ملازمین قانوناًاس پروگرام کے اہل نہیں لہٰذا ان سے مستحقین کے آڑمیں وصول کی گئی رقوم واپس لی جائیں گی۔عوامی حلقوں، مقامی سماجی کارکنان کا کہنا ہیں کہ شانگلہ جیسے پسماندہ اور قدرتی آفات سے مسلسل متاثرہ ضلع میں مستحق افراد پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر واقعی سرکاری ملازمین نے غیر قانونی طور پر امداد حاصل کی ہیں تو یہ نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ غریب اور نادار خاندانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں اوربلخصوص وہ ملازمین جن کے جائیدادمنداورصاحب حیثیت ہوان کیلئے بی آئی ایس پی کا یہ امدادلیناباعث تشویش ہیں۔ان حلقوں کا مطالبہ ہیں کہ صرف رقوم کی سادہ واپسی کافی نہیں بلکہ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے اور جرمانے کے ساتھ ریکوری کی جائے تاکہ آئندہ کوئی اہلکار اس نوعیت کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔شانگلہ ضلع سنہ 2003 کے بعد سے مختلف قدرتی آفات، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ،طوفانی برفباری،میلیٹینسی اور حادثات سے متاثر ہوتا رہا ہیں۔ بنیادی سہولیات کی کمی، محدود روزگار کے مواقع اور کمزور انفراسٹرکچر کے باعث یہاں کی بڑی آبادی کا انحصار حکومتی امدادی پروگراموں پر ہوتا ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہیں کہ اگر امدادی فنڈز اور پروگراموں سے اصل مستحقین محروم رہیں اور بااثر یا سرکاری ملازمین فائدہ اٹھائیں تو اس سے نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہیں بلکہ سماجی بے چینی بھی بڑھتی ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے تاحال باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم ذرائع کا کہنا ہیں کہ ابتدائی مرحلے میں متعلقہ ملازمین کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں اور رقوم کی واپسی کا طریقہ کار طے کیا جا رہا ہیں۔حکام کے مطابق اس معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور اگر کسی قسم کی بدنیتی یا جعلسازی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ادھردوسری جانب کمزورمستحق ملازمین کے نام جاری کردہ فہرست میں شامل ہونے کے بعدان میں شدیدتشویش کی لہردوڑگئی ہیں اوران کا موقف ہیں کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں گزارانہیں ہوتاواپسی صاحب حیثیت ملازمین سے کی جائیں۔طریقہ کارایساواضح کیا جائیں کہ جن لوگوں کے اپنے گھر نہ ہو یاکرایہ کے مکانات میں ہیں،زیادہ بچوں کی کفالت کررہے ہو،بی آئی ایس پی پروگرام میں ملازمین سے رقوم کی واپسی کی پہلے کوئی ایسا قانون نہیں تھا آب ایساکرنا سرکاری ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہیں۔ان سرکاری ملازمین کا موقف ہیں کہ واپسی کے متحمل نہیں،حکومت بی آئی ایس پی کے جاری کردہ واپسی کے اقدامات پرنظرثانی کریں۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے